پیپلزپارٹی کادنیورمیں جلسہ حکمرانوں کواپنی دوغلی پالیسی سے بازآناہوگا، امجدایڈووکیٹ


پیپلزپارٹی کادنیورمیں جلسہ حکمرانوں کواپنی دوغلی پالیسی سے بازآناہوگا، امجدایڈووکیٹ

 اگرہم متنازعہ ہیں توسی پیک بھی متنازعہ ہے،ہم اپنے حقوق کے بغیراس منصوبے کواپنے علاقے سے گزرنے بھی نہیں دینگے، چیف سیکریٹری علاقے کے زمینوں کوخالصہ سرکارقراردینابندکرے،دنیورمیں جلسہ سے خطاب

گلگت بلتستان بھرسے گزشتہ روز صبح سے ہی قافلوں کی آمدکا سلسلہ شروع ہوگیا تھا، نئی قیادت بننے کے بعد پیپلز پارٹی کے اس پہلے جلسے میں کارکنوں میں زبردست جوش دیکھنے میں آیا

گلگت(جی بی نیوز)پاکستان پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے زیر اہتمام دنیور گلگت میں منعقد ہ ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطا ب کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے صوبائی صدر امجد حسین ایڈووکیٹ نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ گلگت بلتستان دنیا کا واحد خطہ ہے جہاں پر دو دو جشن آذادی منائی جاتی ہے ایک چودہ اگست کو اور دوسرا یکم نومبر کو ،68سال گزرجانے کے باوجود ہمیں حقیقی آذادی نہیں ملی۔وہ دنیورمیں پیپلزپارٹی کے زیراہتمام ایک بڑے جلسے سے خطاب کررہے تھے۔ جلسے میں ہزاروں کی تعدادمیں لوگوں نے شرکت کی۔ بلتستان ،دیامر، غذر، نگر ، ہنزہ ،استور سے بڑے بڑے قافلوں نے جلسہ میں شرکت کی۔ گلگت بلتستان بھرسے گزشتہ روز صبح سے ہی قافلوں کی آمدکا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ نئی قیادت بننے کے بعد پیپلز پارٹی کے اس پہلے جلسے میں کارکنوں میں زبردست جوش دیکھنے میں آیا۔ پنڈال میں ہزاروں کی تعداد میں کرسیاں لگائی گئیں تھیں۔سابق وزیراعلیٰ مہدی شاہ لوگوں کی توجہ کامرکزبنے رہے۔ جلسے میں زبردست نعرہ بازی کی گئی۔ حکمرانوں نے جب بھی گلگت بلتستان کے سیاسی جمہوری آئینی حقوق کی بات کرتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ یہ علاقہ متنازعہ ہے ملکی دفاع اور یہاں کے وسائل ملک کے ہوتے ہیں جبکہ حقوق دینے کی بات آتی ہے تو متنازعہ قرار دیکر محروم کیا جاتا ہے ۔حکمرانوں کو اپنی اس دوغلی پالیسی سے بازآناہوگا۔اس کے باوجود گلگت بلتستان کے عوام نے ملک کے ساتھ سب سے زیادہ وفاداری کاثبوت دیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگرہم متنازعہ ہیں توسی پیک بھی متنازعہ ہے ۔ ہم اپنے حقوق کے بغیراس منصوبے کواپنے علاقے سے گزرنے بھی نہیں دینگے۔ سی پیک روڈپردئیے جانے والایہ احتجاجی دھرنااورجلسے سے حکمرانوں کویہ واضح کرناہے کہ ہمارے مطالبات پورے کئے بغیریہ منصوبہ کسی صورت کامیاب نہیں ہوسکتا ہے۔ میاں نوازشریف اور وزیراعلیٰ گلگت بلتستان دیکھیں کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیرکے عوام کوجوسیاسی وجمہوری حقوق دئیے ہیں وہ حقوق آج تک ہمیں نہیں دئیے گئے ۔ سیاچن پرحکمرانوں کوشرم آنی چاہیے ہم کارگل میں لڑنے کے لئے وفادار اور شہداءکی لاشیں بھی ہم نے وصول کوتویہ پانامہ زدہ اسمبلی وحکومت کے لئے ہم متنازعہ ہوتے ہیں۔ انہوں نے حکمرانوں پر واضح کیاکہ اگرگلگت بلتستان سے سی پیک کوگزارنا ہے تو یہاں کے عوام کومکمل آئینی صوبہ اور حق ملکیت تسلیم کرناہوگا۔ انہوں نے کہاکہ سرتاج عزیز کی کمیٹی نے تالیاں بجانے والے سٹیٹس کی بات کی ہے۔ جسے گلگت بلتستان کے عوام مسترد کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ دیامر ، غذر،استور، گلگت، ہنزہ ،نگر،سمیت علاقے کے تمام زمینوں پریہاں کے عوام کا حق ہے ۔جیسے حال سرکار قراردیکر کسی بیوروکریٹس کویہ حق حاصل نہیں کہ وہ بندربانٹ کرلے۔ انہوں نے کہاکہ علاقے کے عوام کوچاہیے اس کے متعلق کسی بھی سیاسی، مذہبی جماعت سے ہو۔انہوں نے متحدہوکر اپنے حقوق کے لئے بڑی سے بڑی قربانی دینے کاعہدکیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ چیف سیکریٹری علاقے کے زمینوں کوخالصہ سرکارقراردینابندکرے ۔اگرباز نہ آئے تو گلگت بلتستان کے عوام ان کے گھرکے سامنے دھرنا دیں گے اور کسی بھی قسم کی قربانی دینے سے دریغ نہیں کرینگے۔

Comments