نجیب اللہ قتل کیس ، سپریم کورٹ نے ملزم سلیمان کو عمر بھر قید کی سزا سنادی گئی


نجیب اللہ قتل کیس ، سپریم کورٹ نے ملزم سلیمان کو عمر بھر قید کی سزا سنادی گئی 

 ملزم سلیمان نے2009ءمیں نجیب اللہ کو قتل کیا تھا جس پر ملزم کے خلاف تحت ایف آئی آر نمبر25/2009زیر دفعہ302/34ت پ تھانہ تھور دیامر میں مقدم قائم ہوا 


ملزم نے چیف کورٹ میں سیشن کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا جس پر چیف کورٹ نے سیشن کورٹ کے فیصلے کو کالعدم کرکے بری کردیا تھا 

گلگت (پ ر) سپریم اپیلٹ کورٹ گلگت بلتستان نے نجیب اللہ قتل مقدمے کے ملزم سلیمان کو عمر بھر قید کی سزاءسنادی اس موقع پر ایڈووکیٹ جنرل گلگت بلتستان شیر مدد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملزم سلیمان نے2009ءمیں نجیب اللہ کو قتل کیا تھا جس پر ملزم کے خلاف تحت ایف آئی آر نمبر25/2009زیر دفعہ302/34ت پ تھانہ تھور دیامر میں مقدم قائم ہوا جس میں ملزم سلیمان اور شمس الحق کو پولیس نے گرفتار کیا ملزم شمس الحق نے مقتول کے ورثاءسے مصالحت کرکے سیشن کورٹ سے بری ہوئے تھے جبکہ سیشن کورٹ دیامر نے ملزم سلیمان کو سزائے موت کی سزاءدیدی ملزم نے چیف کورٹ میں سیشن کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا جس پر چیف کورٹ نے سیشن کورٹ کے فیصلے کو کالعدم کرکے بری کردیا تھا صوبائی حکومت نے چیف کورٹ کے فیصلے کو سپریم اپیلٹ کورٹ میں چیلنج کیا جس پر سپریم اپیلٹ کورٹ کے ڈویژنل بینچ مقدمے کی سماعت کی صوبائی حکومت کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل شیر مدد اور امجد ایڈووکیٹ نے دلائل دیئے جبکہ ملزم کی جانب سے خالد کھرل ایڈووکیٹ نے صفائی کے دلائل دیئے تمام دلائل مکمل ہونے کے بعد چیف جسٹس سپریم اپیلٹ کورٹ ڈاکٹر رانا محمد شمیم اور جسٹس جاوید اقبال نے چیف کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے کر ملزم سلیمان کو عمر بھر قید کی سزاءسنائی ایڈووکیٹ جنرل گلگت بلتستان نے مزید کہا کہ عدم و انصاف سزاءو جزاءکے بغیر کوئی بھی معاشرہ اخلاقی ترقی میں کرسکتا ہے جس معاشرے میں جزاءو سزاءکا تصور نہ ہو تو وہ معاشرہ دیوالیہ ہوجاتا ہے اچھے معاشرے کی نشونما کےلئے سزاءو جزاء، ظالم اور مظلوم میں فرق کرنا ضروری ہے تاکہ قانون کی بالادستی اور حکومتی رٹ قائم رہے اور معاشرہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو۔

Comments