تعمیراتی کام کے لئے صرف چھ ماہ ہوتے ہیں اس کے بعد سردی کی امد کے ساتھ ہی سردی کا بہانہ بناکر تعمیراتی کام کو روک دیا جاتا ہے
کروڑوں روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والا تھوئی پاور پراجکیٹ کی تعمیر کا کام میں اب کچھ تیزی اگئی ہے
غذر(جی بی نیوز) کروڑوں روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والے بجلی کے تین اہم منصوبوں پر کام التوا کا شکار ہوگیا ان اہم منصوبوں کے مکمل ہونے سے پورے ڈسٹرکٹ میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے مکمل خاتمہ کا امکان تھا مگر اس وقت سینگل دو میگاواٹ گلمتی ڈیڑہ میگاواٹ پر کام نہ ہونے کے برابر ہے اگر کام کی اس طرح بندش رہی تو ان منصوبوں کے مکمل ہونے میں مزید کئی سال لگ سکتے ہیں اور اس حوالے سے محکمہ برقیات گلگت بلتستان کے حکام کی خاموشی بھی حیران کن ہے چونکہ گلگت بلتستان میں تعمیراتی کام کے لئے صرف چھ ماہ ہوتے ہیں اس کے بعد سردی کی امد کے ساتھ ہی سردی کا بہانہ بناکر تعمیراتی کام کو روک دیا جاتا ہے جب اس وقت صورت حال یہ کہ غذرمیں چار میگاواٹ پاور پراجیکٹ کے مختلف اہم منصوبوں پر کام نامعلوم وجوہات کی بنا پر روک دیا گیا ہے دوسری طرف کروڑوں روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والا تھوئی پاور پراجکیٹ کی تعمیر کا کام میں اب کچھ تیزی اگئی ہے اس منصوبے کی تعمیر گزشتہ دس سالوں سے مکمل نہیں ہے اور بیس کروڑ کے اس منصوبے پر چونتیس کروڑ روپے خرچ کئے گئے ہے ذرائع کے مطابق تھوئی پاورپراجکٹ کی تعمیر میں کروڑوں روپے کی ایڈونس پیمنٹ کے حوالے سے باقاعدہ انکوری شروع ہوگئی تھی مگر اس انکواری کا بھی کوئی پتہ نہیں چل سکا جبکہ تھوئی پاور پراجکیٹ جو پہلے ہی تاخیر کا شکار ہے گزشتہ دنوں ممبر قانون ساز اسمبلی راجہ جہان زیب کا اس اہم منصوبے کے دورے کے بعد کام میں کچھ تیزی ائیگی ہے جبکہ سینگل اور گلمتی پاور پراجیکٹ کی تعمیر کاکام سست رفتاری کا شکار ہے جس باعث یہ اہم منصوبہ مزید تاخیر کا شکار ہونے سے ایک طرف حکومت کو نقصان ہورہا ہے تو دوسری طرف عوام کو بجلی کی عدم فراہمی سے سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اگر اس منصوبے کو بروقت مکمل کیا گیا تو غذر میں بجلی کی لوڈشیڈنگ میں بڑی حدتک کمی اسکتی تھی دوسری طرف عوام کی نظریں سینگل اور گلمتی پاور پراجیکٹ کی تعمیر پر تھی مگر ان منصوبوں پر کام بھی کچھوے کی رفتار سے جاری ہے اگر یہ منصوبے میں بروقت تعمیر نہ ہوئے تو غذر میں بجلی بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے اور ان منصوبوں پر بھی مقررہ مدت میں پایہ تکیمل تک نہیں پہنچایا گیا تو اس پر حکومت کے خزانے سے مزیدکئی کروڑ روپے کا ٹیکہ لگ سکتا ہے۔۔۔۔

Comments
Post a Comment