انسداد دہشتگردی عدالت کے جج راجہ شہباز خان نے ملزم ندیم عباس کو سزائے موت، ملزمہ جمیلہ بی بی کو عمر بھر کی قید اور اجلال حسین کو8سال کی سزاءدی تھی
اپیل کی سماعت کے دوران ڈویژنل بیچ کے ججز میں اختلاف رائے کے باعث اپیل کی سماعت کےلئے جسٹس ملک حق نواز کو ریفری جج مقرر کیا تھا
تفصیلی فیصلہ 32صفات پر مشتمل ہے جاری کردیا گیا ہے جس میں پولیس کی ناقص تفتیش کو ملزمان کی بری کی ایک بڑی وجہ قرار دے دیا گیا
گلگت (پ ر)چیف کورٹ گلگت بلتستان کے جج جسٹس ملک حق نواز نے بحیثیت ریفری جج سول ہسپتال گلگت کی نرس شہبانہ اختر کے قتل کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے تمام ملزمان کو ان کےخلاف عائد فوجداری اور انسداد دہشتگرد کے دفعات سے بری کردیا قبل ازیں مقدمے کی ٹرائل انسداد دہشتگردی عدالت کے جج راجہ شہباز خان نے مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے ملزم ندیم عباس کو سزائے موت، ملزمہ جمیلہ بی بی کو عمر بھر کی قید اور اجلال حسین کو8سال کی سزاءدی تھی اس فیصلے کے خلاف ملزمان نے چیف کورٹ میں اپیل کی تھی اپیل کی سماعت کے دوران ڈویژنل بیچ کے ججز میں اختلاف رائے کے باعث اپیل کی سماعت کےلئے جسٹس ملک حق نواز کو ریفری جج مقرر کیا تھا جسٹس ملک حق نواز نے سرکار کی جانب سے ڈپٹی ایڈووکیٹ جنرل اور ملزمان کے وکلاءکی صفائی کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد32صفات پر مشتمل فیصلہ صادر کیا ہے اس کے تحت تمام ملزمان کو ان کے خلاف عائد شدہ الزامات سے بری قرار دے دیا جہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ فاضل جج نے پولیس کی تفتیشی عمل کو غیر تسلی بخش اور غیر معیاری قرار دیتے ہوئے چیف سیکریٹری گلگت بلتستان کو ہدایت کی کہ انسپکٹر جنرل آف پولیس کے ذریعے پولیس کے ناقص تفتیشی نظام کی درستگی کےلئے اقدامات کرے اور اس بابت اپنی رپورٹ چیف کورٹ گلگت بلتستان کو آگاہ کریں خصوصاً آئی جی پی گلگت بلتستان کے ساتھ میٹنگ کرکے فیصلے میں نشاندہی کردہ خامیوں کو دور کرنے کےلئے عملی اقدامات کرکے عدالت عالیہ کو آگاہ کریں مقدمے کا تفصیلی فیصلہ جوکہ 32صفات پر مشتمل ہے جاری کردیا گیا ہے جس میں پولیس کی ناقص تفتیش کو ملزمان کی بری کی ایک بڑی وجہ قرار دے دیا گیا۔

Comments
Post a Comment