حقیقی متاثرین ڈیم کا احتجاجی مظاہرہ ہزاروںلوگوں کی شرکت


حقیقی متاثرین ڈیم کا احتجاجی مظاہرہ ہزاروںلوگوں کی شرکت 

چلاس میں اس وقت 75 فیصدآبادی پر صرف ہم متاثرین ڈیم ہیں ،حکومت نے ہمیں نظر انداز کرکے صرف 25فیصد متاثرین کو رشوت کھاکر نوازا ہے

 انتظامیہ اورواپڈا حکام کو ایک مخصوص قبیلے نے یرغمال بنا کر رکھ دیا ہے اور اس وقت انتظامیہ ان کی ناجائز مفادات کا دفاع کررہی ہے

چلاس(جی بی نیوز)حقیقی متاثرین ڈیم و باشندگان چلاس نے شاہین کوٹ چلاس میں اپنے مطالبات کے حق میں سخت احتجاجی مظاہرہ کیااور ضلعی انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی کیا ۔احتجاجی جلسے میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی اور حکومت کے یکطرفہ فیصلوں پر شدید رد عمل کا اظہار کیا ۔ احتجاجی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے حقیقی متاثرین ڈیم و سپریم کونسل کے رہنماوںعبدالعزیز، مولنا عبدالباری ،حبیب الرحمن،مولانا انعام اللہ،عبدالرحمن،گل زمان،ریاض اللہ،محمد عثمان،صدیق و دیگر نے کہا کہ چلاس اور اس کے ملحقہ علاقوں کی بنجر ارضیات اور چراگاہیں 1978کے ناتوڑ رول کے مطابق خالصہ سرکار تھیں ،جیسے بعد ازاں اُس وقت کی حکومت نے دیامر ڈیم کے متاثرین کو ان کے مطالبے پر عوام کو ایک مالیاتی پیکیج کے طور پر دیا ہے ،چلاس میں اس وقت 75 فیصدآبادی پر صرف ہم متاثرین ڈیم ہیں ،حکومت نے ہمیں نظر انداز کرکے صرف 25فیصد متاثرین کو رشوت کھاکر نوازا ہے اور ہمیں یکسر نظرانداز کرکے ظلم کی تاریخ رقم کر دیا گیا ہے۔حقیقی متاثرین نے درپردہ بندربانٹ اور اس تاریخی ناانصافی کے خلاف انصاف کیلئے ہر ایک دروازے کو کھٹکھٹایا ۔لیکن کہیں سے بھی کوئی ٹھوس پیش رفت سامنے نہیں آئی ۔انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ اورواپڈا حکام کو ایک مخصوص قبیلے نے یرغمال بنا کر رکھ دیا ہے اور اس وقت انتظامیہ ان کی ناجائز مفادات کا دفاع کررہی ہے اور ہمیں دیوار سے لگا رہی ہے ،جو کہ ظلم کی انتہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہربن داس چلاس میں ہر قسم کی تعمیرات پر عدالتی حکم امتناعی جاری کیا گیا ہے ،لیکن انتظامیہ کے ناک کے نیچے وہاں پر غیر قانونی تعمیرات ہورہے ہیں ،ضلعی انتظامیہ کو بارہا اس بارے آگاہ کرنے کے باوجود انتظامیہ سنی ان سنی کرکے خاموش رہتی ہے ،اعلی حکام ہرپن داس پر ہر قسم کے تعمیرات پر پابندی لگائے اور تعمیرات کو مسمار کیا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ عدالتی سٹے کی باوجود چراگاہوں کی خفیہ سروے اور ایسسمنٹ کی جارہی ہے ،جو کہ ایک بار پھر درپردہ ایک مخصوص قبیلے کو نوازنے کی سازش ہے ،لہذا اس سروے اور ایسسمنٹ کو روکا جائے ۔اور عدالتی فیصلے تک جوڈیشل ایوارڈ بنایا جائے ۔انہوں نے کہا کہ کے کے ایچ اور شاہین گاوں کے عوام کی آبادیوں اور جائیداد پر چند لوگوں نے بے بنیاد اور جھوٹے دعوے دائر کرکے ان کے حقوق پر ڈھاکہ ڈالنے کی کوشیش کی ہے ،لہذاحکومت غیر قانونی جھوٹے مقدمات کو ختم کرکے ان کے معاوضہ جات ادا کی جائے ۔انہوں نے کہا کہ ہرپن داس سے متعلق مقدمہ سپریم اپلیٹ کورٹ نے محفوظ کر لیا ہے ،صوبائی حکومت اس فیصلے کو جلد منظر عام پر لائے ،انہوں نے کہا کہ چلاس تاکیہ محلے سے گزرنے والی نئی شاہراہ سے متعلق متاثرین کو قبل ازوقت آگاہ کیا جائے ۔انہوں نے حکومت اور ضلعی انتظامیہ کو 4نومبر کی ڈید لائن دیتے ہوئے کہا کہ اگر مذکورہ ڈیڈ لائن تک ان کے مطالبات منظور نہیں ہوئے تو اس کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال کے زمہ دار موجودہ انتظامیہ ہوگی اور ہم دیامر ڈیم پر تعمیراتی کام روک دیںگے۔

Comments