شیر قلعہ میں مسائل کم ہونے کے بجائے زیادہ ہونے لگے

 ہماری صبر کا مزید امتحان نہ لیا جائے ورنہ ہم اپنے حلقے کے ممبر قانون ساز اسمبلی و قائد بالاوستان نشنیل فرنٹ کو لیکر احتجاج کرینگے، عمائدین 

 حکمران خاموش ہماری خاموشی کا مزید امتحان لیا گیا تو بطور احتجاج سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہونگے

غذر (جی بی نیوز ) غذر کا سب سے بڑا گاﺅں شیر قلعہ جہاں کے مسائل روز بروزکم ہونے کی بجائے مزید اضافہ ہوتے جارہے ہیں ہزاروں ابادی کو ملانے والا خستہ حال پل کی حالت زار روز بروز بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے اس گاﺅں کے مکینوں کی امد ورفت کو بہتر بنانے کے لئے پانچ سال قبل ایک ار سی سی پل کی تعمیر کا اغاز ہوگیا جو کہ تاحال مکمل نہ ہوسکا اتنی بڑی ابادی والے گاوں کی ہر رابط سڑک اتنی خستہ حال ہے کہ ان پر سے گاڑیاں گزارنا ایک عزاب سے کم نہیں ایل جی اینڈ ار ڈی کی بنائی گئی رابطہ سڑکیں اثار قدمہ کا منظر پیش کررہی ہے اور جب سے ان سڑکوں کو تعمیر کیا گیا ہے اس کے بعد محکمہ ایل جی اینڈار ڈی نے ان کی مرمت کے بارے میں سوچا تک نہیں ہے جبکہ ار سی سی پل تعمیر کرنے والے ٹھکیدار کی وفات کے بعد اب محکمہ تعمیرات عامہ اس پل کی تعمیر کسی اور تعمیراتی کمپنی کو دینے کی اطلاعات ہیں اس کے باوجود بھی اس پل کی تعمیر کا کام شروع نہ ہوسکا مگر یہ پل کب مکمل ہوگا اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے علاقے کے عمائدین پھردم خان ۔خدا داد ۔ولی جان اور علی آفسر کاکہنا ہے کہ گاﺅں شیر قلعہ کو ہر دور حکومت نے نظر انداز کیا ہوا ہے غذر کا سب سے بڑا گاوں شیر قلعہ کا ارسی سی پل پانچ سال گزرنے کے باوجود مکمل نہ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ گلگت بلتستان کے حکمران اس گاﺅں کے ساتھ کتنے مخلص ہیں وہ یہ چاہتے ہونگے کہ ان کے حمایتی امیدوار کو یہاں کے لوگوں نے ووٹ نہیں دیا شاید یہ انتقام لینے کے لئے اس گاوں کو ترقی کے میدان میں سب سے پیچھے رکھا گیا ہے جبکہ ہزاروں ابادی میں ہسپتال دوائی نہ ہونے کے برابر ہے میڈیکل افسر ہے تو وہ بھی ایک ڈسپنسری میں عوام نے کئی بار دس بیڈ ہسپتال کی تعمیر کا مطالبہ کیا مگر ہر بار سوائے جھوٹے وعدوں کے کچھ نہیں کیا گیا ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ہماری صبر کا مزید امتحان نہ لیا جائے ورنہ ہم اپنے حلقے کے ممبر قانون ساز اسمبلی و قائد بالاوستان نشنیل فرنٹ کو لیکر احتجاج کرینگے سیلاب نے اتنی تباہی مچا دی تھی کہ متعدد مکانات سیلاب کی نذر ہوگئے مگر حکمرانوںاس گاوں کا دورہ کرنا بھی مناسب نہیں سمجھا اور نہ ہی حکومت کی طرف سے کسی قسم کی کوئی امداد ملی جبکہ پل کی حالت سب کے سامنے ہے پانچ سال ہوئے پل کی تعمیر کاکام بند ہے اور حکمران خاموش ہماری خاموشی کا مزید امتحان لیا گیا تو بطور احتجاج سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہونگے۔

Comments