ضلعی انتظامیہ انکھیں کھولے تو پتہ چلے گا چلاس شہر کس نہج پر پہنچ چکا ہے ،خطیب جامع مسجد چلاس

چلاس سب سٹیشن میں چند غریب ملازمین سے ڈیوٹی لی جارہی ہے جبکہ بااثر ملازمین شہر میں اپنے زاتی کاروبار میں مصروف ہیں

تمام اداروں کے ملازمین اپنی مرضی کے مالک بنے بیٹھے ہیں ڈپٹی کمشنر دیامر چلاس شہر کے بنیادی مسائل کے حل کیلئے فوری طور پر اقدامات اُٹھائیں


چلاس(جی بی نیوز)نامور عالم دین و خطیب جامع مسجد چلاس مولنا مزمل شاہ نے چلاس شہر میں بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام پر برس پڑے ۔انہوں نے کہا کہ چلاس شہر میں بجلی کا نظام درہم برہم ہے ضلعی انتظامیہ خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے ،کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ہر طرف اندھیر نگری چوپٹ راج ہے ،محکمہ برقیات دیامر میں سینکڑوں ملازمین بھرتی ہیں لیکن اس وقت ڈیوٹی پر چند غریب ملازمین کے علاوہ باقی تمام ملازمین گھر بیٹھ کر تنخواہیں کھا رہے ،جو کہ نہ صرف دیامر کے ساتھ زیادتی ہے بلکہ اُن غریب ملازمین کے ساتھ بھی جو سال کے 12مہینے اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں ۔محکمہ برقیات دیامر میں بااثر اور سفارشی ملازمین ڈیوٹیوں سے مثتثنی ہیں جبکہ غریب ملازمین کا برقیات کے زمہ داروں نے کچومر نکال کر رکھ دیا ہے ،غریب ملازمین کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر خاموش نہیں رہ سکتے ،زمہ دار حکام اپنے رویوں میں تبدیلی لائیں اور ظلم کا یہ سلسلہ اب بند ہونا چاہے ۔انہوں نے کہا کہ جو ملازم بغیر ڈیوٹی کے تنخواہ کھاتا ہے وہ تنخواہ حرام ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ چلاس سب سٹیشن میں چند غریب ملازمین سے ڈیوٹی لی جارہی ہے جبکہ بااثر ملازمین شہر میں اپنے زاتی کاروبار میں مصروف ہیں ،چلاس شہر میں حکومتی رٹ نظر نہیں آرہی ہے ،تمام اداروں کے ملازمین اپنی مرضی کے مالک بنے بیٹھے ہیں ۔ڈپٹی کمشنر دیامر چلاس شہر کے بنیادی مسائل کے حل کیلئے فوری طور پر اقدامات اُٹھائیں ،اور روزانہ کی بنیاد پر برقیات کے ملازمین کے حاضری چیک کرلیں کہ کتنے ملازمین روزانہ ڈیوٹی پر حاضر ہوتے ہیں ،ضلعی انتظامیہ انکھیں کھولیں تو پتہ چلے گا کہ چلاس شہر کس نہج پر پہنچ چکا ہے ۔دیامر کے تمام اداروں بشمول محکمہ برقیات میں بائیو میٹرک سسٹم لایا جائے ،اور انتظامی سربراہان خدا کا خوف کھا کر اپنے فرائض دیانت داری اور ایمانداری سے سرانجام دیں ۔

Comments