ڈپٹی سپیکر قانون ساز اسمبلی جعفراللہ خان نے ایک ہفتے میں مسئلہ حل کرنے کے وعدے پر ہم سے ووٹ لیاتھا
آج سے ہی بتارہے ہیں کل ووٹ مانگنے ہمارے پاس کوئی نہ آئے اور ووٹ مانگ کر ہمارے زخموں پر پھر سے نمک پاشی کرنے کی کوشش نہ کی جائے
گلگت ( جی بی نیوز )کنوداس پانی وبجلی کے ستائے عوام حقوق کیلئے متحد ، پانی کا مسئلہ حل نہ کیا گیا تو بلدیاتی الیکشن میں کسی کو بھی ووٹ نہیں دیں گے۔ اپنے میزائل موٹر کاندھوں پے اٹھاکر صبح شام دریا جانے کی مشقت اٹھا رہے ہیں ۔ڈپٹی سپیکر قانون ساز اسمبلی جعفراللہ خان نے ایک ہفتے میں مسئلہ حل کرنے کے وعدے پر ہم سے ووٹ لیاتھا آج ڈیڑھ سال ہوگیا ہے جعفراللہ نے ہماری طرف دیکھنا بھی گوارا نہیں کیاوہ خود منرل واٹر پیتے نہیں ہم جراثیم آلودپانی پینے پر مجبور ہیں اور گھریلو استعمال کے پانی کے حصول کیلئے روزانہ صبح شام واٹر موٹر اٹھاکر دریا میں جانا پڑتاہے خواتین کپڑے دھونے کیلئے دریا میں جاتی ہیں منتخب نمائندوں اور حکومتی شخصیات کو شرم آنی چاہئے ،ہمیں پانی کیلئے ترسایا جارہاہے اور دیگر ایریاز کی نسبت بجلی کی لوڈ شیڈنگ بھی زیادہ کی جاتی ہے حکمران ہمیں انسان ہی نہیں سمجھتے ہیں یا یہاں کے شہری تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں ،ووٹ کے وقت ہم قیمتی انسان اور محب وطن شہری کہلاتے ہیں اور ووٹ دینے کے بعد ہمیں کرایہ دار اور غیر مقامی لے طعنے دےئے جاتے ہیں ۔کنوداس کے 85فیصد سے زائدرہائشی لوگ یہاں کے مقامی ہیں اور اپنے مکانات و زمین رکھتے ہیں، کرایہ داروں میں بھی 20 سے 22فیصد رہائشی گزشتہ کئی سال سے یہاں مقیم ہیں اور ووٹ بھی یہاں کاسٹ کرتے ہیں ۔الیکشن میں کھڑا ہونے وا لا ہر امید وار کنوداس کے ووٹ سے ہی کامیاب ہوتاہے ۔لیکن افسوس کا مقام ہے کہ یہاں کے عوام کے ساتھ حکومتی رویہ ہمیشہ سے ٹھیک نہیں رہاہے ۔حکومتی رویہ ٹھیک نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں میں مایوسی پائی جاتی ہے ،مشرف دور میں بننے والی دو ٹینکیاں گندگی سے بھری پڑی ہیں محکمہ تا حال انکو بحال کرنے میں ناکام رہاہے اگر ان ٹینکیوں کو بحال کیاجائے تو پانی کی قلت کا مسئلہ حل ہو سکتاہے ،کنوداس کے مکینوں اکرام، عطاللہ ،احسان اللہ ،شوکت ۔عطیع اللہ خان ،اسماعیل، قیوم ،آصف خان و دیگر نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کیا انکا کہناتھا کہ مسلم لیگ ن کے امید وار موجودہ ڈپٹی سپیکر جعفراللہ خان نے کنوداس کے عوام سے بجلی اور پانی کے مسئلہ کو حل کرنے کے وعدے پر ووٹ لیاتھا اور وعدہ کیاتھا کہ کامیابی کے بعد پہلے ہفتے میں ہی پانی کا مسئلہ حل کیاجائے گا ،گزشتہ سال یہاں ایک سکول کی تقریب میں آکر 17دن میں پرانی ٹینکیوں کو بحال اور واٹر پمپز کو سپیشل بجلی دینے کا وعدہ کیا تھا جوکہ تاحال وفا نہ ہوسکاہے ہمیں لگتا ہے کہ بلدیاتی ووٹ بھی پانی اور بجلی کے نام ہی لینے کی تیاری کی جارہی ہے اب عوام سے ایسی کوئی غلطی نہیں ہوگی جب تک پانی کا مسئلہ حل نہیں ہوگا ہم بلدیاتی الیکشن کا بائیکاٹ کریں گے اور کسی کو بھی وووٹ نہیں دیں گے انہوں نے کہاکہ آج سے ہی بتارہے ہیں کل ووٹ مانگنے ہمارے پاس کوئی نہ آئے اور ووٹ مانگ کر ہمارے زخموں پر پھر سے نمک پاشی کرنے کی کوشش نہ کی جائے ۔ووٹ اسی کو ملے گا جو مسئلہ حل کریگا ۔انہوں نے کہاکہ حکومت نے منصوبے کا اعلان کیا ہے عوام سے کنکشن کے نام پر رقم جمع کرنے کی کیا ضرورت ہے کیاحکومت غریب ہوگئی ہے جو عوام سے پیسے لیکر کام کرائے گی اگر عوام نے ہی پیسے دینے تھے تو یہ کام تو ہم خود بھی کرسکتے تھے چندہ جمع کرو اور کام کرویہ کونسا مشکل کام ہے ووٹ لیتے وقت ہمیں یہ کیوں نہیں بتا گیا کہ پیسے لیکر پانی کا کنکشن لگایا جائے گا جو وعدہ الیکشن کے دوران کیا گیا ہے وہ پورا کیاجائے ۔۔۔
آج سے ہی بتارہے ہیں کل ووٹ مانگنے ہمارے پاس کوئی نہ آئے اور ووٹ مانگ کر ہمارے زخموں پر پھر سے نمک پاشی کرنے کی کوشش نہ کی جائے
گلگت ( جی بی نیوز )کنوداس پانی وبجلی کے ستائے عوام حقوق کیلئے متحد ، پانی کا مسئلہ حل نہ کیا گیا تو بلدیاتی الیکشن میں کسی کو بھی ووٹ نہیں دیں گے۔ اپنے میزائل موٹر کاندھوں پے اٹھاکر صبح شام دریا جانے کی مشقت اٹھا رہے ہیں ۔ڈپٹی سپیکر قانون ساز اسمبلی جعفراللہ خان نے ایک ہفتے میں مسئلہ حل کرنے کے وعدے پر ہم سے ووٹ لیاتھا آج ڈیڑھ سال ہوگیا ہے جعفراللہ نے ہماری طرف دیکھنا بھی گوارا نہیں کیاوہ خود منرل واٹر پیتے نہیں ہم جراثیم آلودپانی پینے پر مجبور ہیں اور گھریلو استعمال کے پانی کے حصول کیلئے روزانہ صبح شام واٹر موٹر اٹھاکر دریا میں جانا پڑتاہے خواتین کپڑے دھونے کیلئے دریا میں جاتی ہیں منتخب نمائندوں اور حکومتی شخصیات کو شرم آنی چاہئے ،ہمیں پانی کیلئے ترسایا جارہاہے اور دیگر ایریاز کی نسبت بجلی کی لوڈ شیڈنگ بھی زیادہ کی جاتی ہے حکمران ہمیں انسان ہی نہیں سمجھتے ہیں یا یہاں کے شہری تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں ،ووٹ کے وقت ہم قیمتی انسان اور محب وطن شہری کہلاتے ہیں اور ووٹ دینے کے بعد ہمیں کرایہ دار اور غیر مقامی لے طعنے دےئے جاتے ہیں ۔کنوداس کے 85فیصد سے زائدرہائشی لوگ یہاں کے مقامی ہیں اور اپنے مکانات و زمین رکھتے ہیں، کرایہ داروں میں بھی 20 سے 22فیصد رہائشی گزشتہ کئی سال سے یہاں مقیم ہیں اور ووٹ بھی یہاں کاسٹ کرتے ہیں ۔الیکشن میں کھڑا ہونے وا لا ہر امید وار کنوداس کے ووٹ سے ہی کامیاب ہوتاہے ۔لیکن افسوس کا مقام ہے کہ یہاں کے عوام کے ساتھ حکومتی رویہ ہمیشہ سے ٹھیک نہیں رہاہے ۔حکومتی رویہ ٹھیک نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں میں مایوسی پائی جاتی ہے ،مشرف دور میں بننے والی دو ٹینکیاں گندگی سے بھری پڑی ہیں محکمہ تا حال انکو بحال کرنے میں ناکام رہاہے اگر ان ٹینکیوں کو بحال کیاجائے تو پانی کی قلت کا مسئلہ حل ہو سکتاہے ،کنوداس کے مکینوں اکرام، عطاللہ ،احسان اللہ ،شوکت ۔عطیع اللہ خان ،اسماعیل، قیوم ،آصف خان و دیگر نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کیا انکا کہناتھا کہ مسلم لیگ ن کے امید وار موجودہ ڈپٹی سپیکر جعفراللہ خان نے کنوداس کے عوام سے بجلی اور پانی کے مسئلہ کو حل کرنے کے وعدے پر ووٹ لیاتھا اور وعدہ کیاتھا کہ کامیابی کے بعد پہلے ہفتے میں ہی پانی کا مسئلہ حل کیاجائے گا ،گزشتہ سال یہاں ایک سکول کی تقریب میں آکر 17دن میں پرانی ٹینکیوں کو بحال اور واٹر پمپز کو سپیشل بجلی دینے کا وعدہ کیا تھا جوکہ تاحال وفا نہ ہوسکاہے ہمیں لگتا ہے کہ بلدیاتی ووٹ بھی پانی اور بجلی کے نام ہی لینے کی تیاری کی جارہی ہے اب عوام سے ایسی کوئی غلطی نہیں ہوگی جب تک پانی کا مسئلہ حل نہیں ہوگا ہم بلدیاتی الیکشن کا بائیکاٹ کریں گے اور کسی کو بھی وووٹ نہیں دیں گے انہوں نے کہاکہ آج سے ہی بتارہے ہیں کل ووٹ مانگنے ہمارے پاس کوئی نہ آئے اور ووٹ مانگ کر ہمارے زخموں پر پھر سے نمک پاشی کرنے کی کوشش نہ کی جائے ۔ووٹ اسی کو ملے گا جو مسئلہ حل کریگا ۔انہوں نے کہاکہ حکومت نے منصوبے کا اعلان کیا ہے عوام سے کنکشن کے نام پر رقم جمع کرنے کی کیا ضرورت ہے کیاحکومت غریب ہوگئی ہے جو عوام سے پیسے لیکر کام کرائے گی اگر عوام نے ہی پیسے دینے تھے تو یہ کام تو ہم خود بھی کرسکتے تھے چندہ جمع کرو اور کام کرویہ کونسا مشکل کام ہے ووٹ لیتے وقت ہمیں یہ کیوں نہیں بتا گیا کہ پیسے لیکر پانی کا کنکشن لگایا جائے گا جو وعدہ الیکشن کے دوران کیا گیا ہے وہ پورا کیاجائے ۔۔۔

Comments
Post a Comment