پاکستان پیپلزپارٹی کی جانب سے اسمبلی سیکریٹریٹ میں خالصہ سرکارکے حوالے سے جمع کروایاگیا بل وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کی بد نیتی کی وجہ سے اسمبلی میںپیش نہیں کیا جارہاہے
انہوں نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ مناور کی 34ہزار کنال زمین خالصہ سرکار قرار دے کر سرکاری دفتروں کے لیے الراٹ کیا گیا ہے اور ان زمینوں پر سرکاری بلڈنگز تعمیر کیجائیں گی
گلگت(عامر خان) پاکستان پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے صوبائی صدر نے امجد حسین ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ خالصہ سرکار کے حوالے سے عوامی عدالت بہت جلد دنیور میں سجایا جائے گا جس میں اسمبلی سیکریٹریٹ میں پیش کیا گیا بل اس عوامی عدالت میں عوام کے سامنے پیش کرینگے ۔پاکستان پیپلزپارٹی کی جانب سے اسمبلی سیکریٹریٹ میں خالصہ سرکارکے حوالے سے جمع کروایاگیا بل وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کی بد نیتی کی وجہ سے اسمبلی میںپیش نہیں کیا جارہاہے ۔اتوار کے روز انہوں نے مناورشاہین یوتھ ویلفیئرکے زیر اہتمام اچھی کارکردگی دیکھانے والے طلبہ وطالبات کے لئے تقسیم انعامات کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جوٹیا ل اور خومر کی زمینیں عوامی ملکیتی ہوتی ہے جبکہ مناور اور دیگرعلاقوں کی زمینیں خالصہ سرکار قرار دے کر بندر بانٹ کیاجارہاہے ۔انہوں نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ مناور کی 34ہزار کنال زمین خالصہ سرکار قرار دے کر سرکاری دفتروں کے لیے الراٹ کیا گیا ہے اور ان زمینوں پر سرکاری بلڈنگز تعمیر کیجائیں گی ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی نے عوامی ملکیتی زمینوں کی تحفظ کیا تھا اور اس کی زندہ مثال دیامر بھاشہ ڈیم کے مد میں لی گئی زمین کی دیامر کے عوام کو ان کی زمینوں کی قیمت ادا کی گئی،موجودہ حکومت بتائے گلگت بلتستان کی زمینیں کسی طرح خالصہ سرکار ہیں جبکہ پنجاب ،سندھ ،KPKاور بلوچستان کی زمینیں بھی عوام سے خریدی گئی ہیں اور گلگت بلتستان کی عوامی ملکیتی زمینیں بغیر کسی سے بوچھے خالصہ سرکار قرار دیا جاتا ہے ۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے راہنماءزینت شاہ نے کہا کہ حکومت مناور کے عوام کے ساتھ ستیلی ماں جیسا سلوک کر رہی ہے۔ ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ مناور کے ایک سکول میں ایک ٹیچر بھر تی کرنے میں ایک سال کا عرصہ لگاتی ہے اور عوام کی ملکیتی زمینیں ایک مہینے کے اندر قبضہ کرتی ہے۔


Comments
Post a Comment