آئے دن بی ای سی ایس کے ادارے میں کرپشن کے کیسسز سامنے آتے ہیں جس کی وجہ سے بیکس کاادارہ صرف پانچ سو وظیفہ دینے سے بھی قاصر ہے
معلوم نہیں جی بی ایسو سی ایشن کا منصوبہ کیا ہے؟احتجاج کا با قاعدہ کال نہ دینے پر تمام اضلاع کے اساتذہ میں تشویش پائی جاتی ہے۔بہت انتظار کیا ہے
سخت احتجاج کی حکمت عملی تیار کرنی چاہئے۔جب تک احتجاج نہ کریں پانچ سو کا وظیفہ بھی نہیں ملتا
گلگت ( پ ر ) سیپ ٹیچرز ایسو سی ایشن ضلع گلگت کا ایک اہم میٹنگ زیر صدارت سید افضل منعقد ہوئی۔اجلاس میں ضلع گلگت کے ذمہ دار اساتذہ نے بھرپور شرکت کی ۔ اجلاس میں اساتذہ سے خطاب کرتے ہوئے سید افضل نے کہا کہ سیپ اساتذہ کے گھروں میں فاقوں کی نوبت آئی ہے ، اساتذہ ذہنی مریض بن چکے ہیں پانچ مہینے ہوئے ماہانہ پانچ سو وظیفہ دیا جاتا تھا وہ بھی بند کیا گیا ہے۔ آئے دن BECSکے ادارے میں کرپشن کے کیسسز سامنے آتے ہیں جس کی وجہ سے بیکس کاادارہ صرف پانچ سو وظیفہ دینے سے بھی قاصر ہے۔آخر ہم کب تک ظلم کی چکی میں پستے رہیں گے۔ ارباب اختیار کو توجہ دینی ہوگی، ہر بچے کو بنیادی تعلیم کا بنیادی حق دینا ریاست کی اولین ذمہ داری ہوتی ہے۔لیکن صوبائی حکومت 58000طلباءو طالبات NEFکے حوالے کر کے خود کو بری الذمہ سمجھتی ہے۔ہمیں جلد از جلد صوبائی حکومت اپنی تحویل میں لا کر ہمارے سکولوں کا نظام برباد ہونے سے بچایا جائے۔سید افضل نے کہا کہ حفیظ الرحمان کے وعدے کے بعد دو سال کا عرصہ گزرا نہ جانے کیوں احتجاج کی بات تو ہوتی ہے لیکن جی بی ایسو سی ایشن اساتذہ کو احتجاج کے لئے کال نہیں دیتے ۔ معلوم نہیں جی بی ایسو سی ایشن کا منصوبہ کیا ہے؟احتجاج کا با قاعدہ کال نہ دینے پر تمام اضلاع کے اساتذہ میں تشویش پائی جاتی ہے۔بہت انتظار کیا ہے مزید اساتذہ کو انتظار میں نہ رکھا جائے، ہمیں حق کے حصول کے لئے سخت احتجاج کی حکمت عملی تیار کرنی چاہئے۔جب تک احتجاج نہ کریں پانچ سو کا وظیفہ بھی نہیں ملتا۔گلگت بلتستان کے تعلیمی میدان میں سیپ اساتذہ کا کلیدی کردار ہے۔ گلگت بلتستان میں پرائمری سیکشن سیپ اساتذہ کے ذمے ہے۔وزیر اعلیٰ اور چیف سیکریٹری سے اپیل ہے کہ سیپ کے 756سکولوں کا دیرینہ مسئلہ حل کر کے 58000طلباءو طالبات کا مستقبل تاریک ہونے سے بچایا جائے۔

Comments
Post a Comment